1 جنوری 2011 - 20:30

میڈیا کراچی میں قا نون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اغوا کئے گئے بے گناہ شیعہ نوجوانوں کی بازیابی کے لئے اپنا جرات مندانہ کردار ادا کرے، علامہ مرزا یوسف حسین کی پریس کانفرنس۔۔

ابنا: مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی شوریٰ نظارت کے رکن او رکراچی کے ممتازعالم دین علامہ مرزا یوسف حسین نے کہاہے کہ میڈیا نے ماضی میں بھی لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے مثبت کردار اد اکیا تھا اور اب بھی اسے قا نون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اغوا کئے گئے بے گناہ شیعہ نوجوانوں کی بازیابی کے لئے اپنا جرات مندانہ کردار ادا کرنا چاہیے ، وہ کراچی میں ایک پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔ اس موقع پر لا پتہ شیعہ نوجوانوں،حسین آباد اورنگی ٹاو¿ن کے رہائشی حسنین عباس،نارتھ کراچی کے رہائشی مظہر عباس ،تنویر عباس،فیڈرل بی ایریا کے رہائشی رفعت عباس،کمیل،کینٹ اسٹیشن ایریا کے رہائشی پرویز زیدی،جہانگیر ،سکندر،اور جعفر طیار کے رہائشی ابرار علی اور علی مہدی کے لواحقین بھی موجود تھے ۔ لاپتہ شیعہ نوجوانوں کے اہل خانہ نے کہا کہ جس دن سے ہمارے لخت جگر لا پتہ ہیں ہمارے گھروں میں فاقے ہیں اور قیامت صغریٰ کے مناظر ہیں ، انہوں نے کہا کہ ملت جعفریہ کا ہر فرد مملکت پاکستان کی خاطر قربانیاں دیتا رہاہے اور آئیدہ بھی استحکام پاکستان کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گاتا ہم حکومت کی جانب سے ملت جعفریہ کے بے گناہ جوانوں کو ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بنانا ایک سوالیہ نشان اور حکومت کے لئے شرمناک فعل ہے۔انہوں نے صدر پاکستان آصف علی زرداری،وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی ،وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک ،صوبائی وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا سمیت چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی ہے کہ خدا را بے گناہ شیعہ جوانوں کو بازیاب کرنے میں اپنا کردار ادا کریں اور غربت اور مہنگائی میں پسی ہوئی عوام کو مزید دکھ نہ پہنچائیں۔حکومت لاپتہ شیعہ نوجوانوں کو فی الفور بازیاب کروائے، لا پتہ شیعہ نوجوانوں کے لواحقین کے مطابق کئی دن گذر چکے ہیں مگر ہمارے بچوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ،ان کاکہنا تھا کہ ہم نے سندھ ہائیکورٹ کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا اور پتیشن دائر کی ہے لیکن اس کے باوجود ہمارے بچوں کا کوئی پتہ نہیں چلا ،انہوںنے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے بھی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ بے گناہ شیعہ جوانوں کو بازیاب کروانے میں ہماری مدد کریں۔ےاد رہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کچھ روز قبل کراچی کے مختلف علاقوں میں کاروائیاں کرتے ہوئے بے گناہ شیعہ نوجوانوں کو گرفتار کرکر کے لا پتہ کر دیا تھا ارو کئی روز گزرنے کے باوجود ابھی تک ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکاجس کی وضہ سے ان کے اہل خانہ زہنی اذیت سے دوچار ہیں اور ان کی باز یابی کے کے ایوان اقتدار ، عدلیہ ایجنسیوں کے دروازوں پر دستکیں دے رہے ہیں لیکن شنوائی نہیں ہوتی.

۔۔۔۔۔۔

/110